کلہ داری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بادشاہی؛ تاجداری۔ "قلندری کے ساتھ کُلَّہ داری بھی ہو یا کُلَّہ داری کے ساتھ قلندری بھی ہو۔"      ( ١٩٨٨ء، مزاج و ماحول، ١٨٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'کُلَّہ' کے بعد فارسی مصدر 'داشتن' سے مشتق صیغہ امر 'دار' بطور لاحقۂ فاعلی لگا کر اس کے بعد 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب ہوا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٨٢٤ء کو "کلیات مصحفی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بادشاہی؛ تاجداری۔ "قلندری کے ساتھ کُلَّہ داری بھی ہو یا کُلَّہ داری کے ساتھ قلندری بھی ہو۔"      ( ١٩٨٨ء، مزاج و ماحول، ١٨٢ )

جنس: مؤنث